ابنا: شام کے خلاف منڈلاتے ہوئے جنگ کے بادل چھٹ چکے ہیں۔ امریکہ نے جنگ کے نعرے لگانا بند کر دیئے ہیں اور اب سفارتکاری کی باتیں ہو رہی ہیں، وہ بھی ایک ایسی لانگ ٹرم سفارتکاری جس کے اہداف پوری طرح مشخص نہیں ۔امریکی صدر براک اوباما جو ایک ہفتہ قبل جنگ کے حامی صدر کے طور پر سامنے آئے تھے اب میدان سے مکمل طور پر پیچھے ہٹ چکے ہیں ۔ حالانکہ اس سے قبل امریکی حکومت نے انتہائی زور و شور سے اپنے موقف کا اظہار کیاتھا اپنی طرف سے شواہد پیش کئے اور جنگ کی دھمکیاں دینا شروع کر دیں، دوسرے ممالک کو یہ کہا کہ ہمارا ساتھ دیں ورنہ ہم سے پیچھے رہ جائیں گے۔ امریکی حکومت نے رسمی طور پر اعلان کیا کہ شام کے خلاف فوجی کاروائی ہو کر رہے گی۔ پھر آہستہ آہستہ اپنے مقصد کو شام کی حکومت کو سزا دینے سے شامی حکومت کی سرنگونی تک بڑھا دیا، شام کے مسئلے کو ایران سے جوڑا اور یہ اعلان کیا کہ وہ شام کے خلاف فوجی اقدام کے ذریعے ایران کو سبق سکھانا چاہتےہیں۔ اپنی فوجوں کو بحیرہ روم بھیج کر جنگ کی پوزیشن میں لا کھڑا کیا۔ اعلانیہ طور پر بعض ممالک میں جنگ کے کمانڈ سینٹرز تشکیل دے دیئے اور اپنے میزائلوں کا رخ شام کی جانب موڑ دیا۔ اسرائیلی اور سعودی حکام نے خوشی کے مارے نعرے لگانا شروع کر دیئے۔لیکن اچانک صفحہ پلٹا اور امریکی صدر براک اوباما نے اعلان کیا کہ وہ سفارتی حل کو فوجی حل پر ترجیح دیتے ہیں۔ شام میں طاقت کے توازن میں تبدیلی اور صدر بشار اسد کی حکومت کی سرنگونی کی جگہ شام کے کیمیائی ہتھیاروں پر بین الاقوامی نظارت کی باتیں ہونے لگیں، امریکی کانگریس کو درمیان میں لایا گیا، برطانیہ اور جرمنی نے شام کے خلاف جنگ میں شامل ہونے سے انکار کر دیا، روس نے زبردست سفارتکاری شروع کر دی۔ ایران کی جانب سے شدید ردعمل کی دھمکی نے مغربی میڈیا میں ہلچل مچا دی اور اب صورتحال یہ ہے کہ یہ سارا پروجیکٹ امریکہ کیلئے انتہائی بے عزتی اورسیاسی رسوائی کا سبب بن چکا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ شام کے خلاف فوجی کاروائی کا امریکہ کا فیصلہ حتمی تھا۔ امریکہ کو یہ گمان ہو چلا تھا کہ صدر بشار اسد بہت جلد حکومت مخالف مسلح دہشت گرد گروہوں کا کام تمام کرنے والے ہیں، اسرائیل کو یہ یقین ہو چکا تھا کہ صدر بشار اسد کی سربراہی میں شام اس کیلئے ایک بڑا سیکورٹی خطرہ بننے والا ہے،امریکہ اس بات سے خوفزدہ تھا کہ اگر صدر بشار اسد موجودہ بحران پر قابو پانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو ایران کی سربراہی میں اسلامی مزاحمتی بلاک انتہائی طاقتور ہو جائے گا اور وہ ایران کے ساتھ مقابلہ کرنے کی صلاحیت کھو دے گا۔ امریکہ نے شام کے خلاف فوجی کاروائی کو اپنی عزت کا مسئلہ بنا لیا تھا اور یہ سوچ رہا تھا کہ اگر شام کے خلاف فوجی کاروائی نہیں ہوتی تو ایران اور شام کی نظر میں اس کی بنائی ہوئی ریڈلائنز کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہ جائے گی۔موجودہ دلائل کی روشنی میں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ وہ کونسی چیز تھی جوامریکی موقف اور فیصلے میں تبدیلی کا باعث بنی؟اس کی اہم ترین وجہ یہ ہے کہ امریکہ نے شام کے خلاف فوجی کاروائی کرنے کے اعلان کے ساتھ ساتھ خفیہ مذاکرات کے ذریعے ایک پروپیگنڈا مہم شروع کر رکھی تھی جس کا مقصد شام کے حامی ممالک بالخصوص ایران کو ڈرا دھمکا کر اس بات پر راضی کرنا تھا کہ اگر شام کے خلاف کسی قسم کی فوجی کاروائی انجام پاتی ہے تو اس کے ردعمل میں کوئی جوابی کاروائی انجام نہ دی جائے ورنہ اس کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔امریکہ اس خام خیالی کا شکار تھا کہ اگر وہ شام کے اتحادی ممالک جیسے ایران کو اس بات پر راضی کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے کہ شام کے خلاف فوجی کاروائی کی صورت میں وہ کوئی جوابی کاروائی انجام نہ دیں اور اسے یہ یقین حاصل ہو جاتا ہے کہ شام کے حامی ممالک صدر بشار اسد کے دفاع میں میدان میں نہیں اتریں گے اور شام کے خلاف فوجی کاروائی ایک ایسی بڑی جنگ میں تبدیل نہیں ہو جائے گی جو تمام خطے کو اپنی لپیٹ میں لینے کی صلاحیت رکھتی ہو تو وہ نہایت اطمینان اور سکون کے ساتھ یہ فوجی کاورائی انجام دے سکتا ہے۔ لیکن ہوا یہ کہ ان مذاکرات کا نتیجہ بالکل الٹا نکلا۔ خاص طور پر ایران نے امریکہ کو واضح طور پر بتا دیا کہ شام کے خلاف فوجی کاروائی کی صورت میں خاموش تماشائی بن کر نہیں بیٹھے گا اور ایسا کام کرے گا کہ یہ فوجی حملہ خطے میں امریکہ کی آخری شرارت ثابت ہو جس کے بعد اسے خطے میں پاوں رکھنے کی جرات بھی نہ ہو۔ جب امریکہ نے محسوس کیا کہ شام کے خلاف بغیر کسی نقصان اور سستے داموں فوجی کاروائی کرنے کا کوئی امکان نہیں اور دوسری طرف ایران کے پاس اپنی دھمکیوں کو عملی جامہ پہنانے کی جرات بھی ہے اور صلاحیت بھی، تو وہ اپنے موقف پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہو گیا اور شام کے خلاف فوجی حملے کے فیصلے سے پیچھے ہٹ گیا۔درحقیقت اسلامی جمہوریہ ایران نے امریکہ کو شام اور اسلامی مزاحمتی بلاک کی جانب سے امریکہ کی محدود فوجی کاروائی کا جواب ایک وسیع اور نامحدود حملے کی صورت میں عندیہ دیا۔ اوراس بات کا بھی قوی امکان تھا کہ یہ فوجی کاروائی ایک ایسی جنگ میں تبدیل ہو جائے جس کو کنٹرول کرنا دونوں فریقوں کیلئے ناممکن ہو جاتا،اسی لئے امریکہ نےاس بات میں اپنی صلاح جانیکہ روس کی جانب سے پیش کردہ منصوبے پر ہی اکتفا کر لیا جائے۔ حالانکہ یہ منصوبہ روس نے کئی سال قبل پیش کیا تھا جس کے مطابق خطے میں موجود بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا مکمل خاتمہ انجام پانا تھا لیکن امریکہ اور اس کے اتحادی اس منصوبے سے بے اعتنائی برت رہے تھے۔ لیکن اب جب امریکہ نے اپنے سامنے تمام راستوں کو بند دیکھا تو فورا ہی اس منصوبے کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے شام کے مسئلے کو سفارتکاری کے ذریعے حل کرنے کی باتیں کرنے لگا۔ان واقعات نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کرنے اور دشمن کی صلاحیتوں کو درست طور پر دیکھنے کی پالیسی وہ بنیادی رکن ہے جو اسلامی مزاحمتی بلاک کی جانب سے جنگ طلب ممالک جیسے امریکہ اور اسرائیل کو کنٹرول کرنے میں انتہائی موثر اور مفید ثابت ہوا ہے۔ یہ وہ اسٹریٹجی ہے جس کا کوئی نعم البدل بھی نظر نہیں آتا۔
.......
/169